’بوائے فرینڈ کرائے پر دستیاب‘: جعلی ڈیٹنگ اشتہارات کے ذریعے نوجوان خواتین کو نشانہ بنانے کا انکشاف
حیدرآباد، بھارت: بھارت میں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ’کرائے پر بوائے فرینڈ‘ کے اشتہارات نے سائبر سکیورٹی کے حوالے سے نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔ حیدرآباد پولیس کے مطابق یہ اشتہارات بظاہر نوجوان خواتین کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں، لیکن ان کے پیچھے مبینہ طور پر مالی فراڈ اور ذاتی معلومات کے غلط استعمال کا جال موجود ہے۔
حیدرآباد پولیس کمشنر وی سی سجنار نے خبردار کیا ہے کہ یہ سائبر مجرموں کا نیا ڈیٹنگ اسکیم ہو سکتا ہے، جس میں خاص طور پر نوجوان خواتین کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
اشتہارات میں تنہائی کا شکار خواتین کو کافی پینے، فلم دیکھنے، خریداری یا تقریبات میں ساتھ دینے کے لیے ’بوائے فرینڈ‘ کرائے پر لینے کی پیشکش کی جاتی ہے۔
مختلف سرگرمیوں کے لیے الگ قیمت
پولیس کے مطابق ان اشتہارات میں مختلف سرگرمیوں کے لیے الگ الگ قیمتیں درج کی گئی ہیں۔
مثلاً:
- ایک گھنٹے کے لیے کافی اور گفتگو: 499 بھارتی روپے
- فلم دیکھنے کے لیے: 1,249 روپے
- خریداری کے دوران ساتھ: 1,499 روپے
- تقریب یا شادی میں ساتھ جانے کے لیے: 1,999 روپے
- 10 گھنٹے کا مکمل پیکیج: 4,499 روپے
اشتہارات میں خواتین سے براہِ راست رابطہ کرنے اور بکنگ کی پیشگی رقم ادا کرنے کو کہا جاتا ہے۔
مصنوعی ذہانت سے تیار تصاویر
حیدرآباد پولیس کے مطابق تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اشتہارات میں دکھائی جانے والی بعض نوجوانوں کی تصاویر حقیقی نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کی گئی ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ جب کوئی خاتون اشتہار میں دیے گئے رابطے پر بات کرتی ہے تو مبینہ طور پر اس سے ذاتی معلومات حاصل کی جاتی ہیں۔ بکنگ کی تصدیق کے نام پر پیشگی رقم ڈیجیٹل والٹ یا QR کوڈ کے ذریعے وصول کی جاتی ہے۔
رقم حاصل کرنے کے بعد مبینہ طور پر متعلقہ اکاؤنٹس بلاک کر دیے جاتے ہیں اور فراڈ کرنے والے غائب ہو جاتے ہیں۔
بلیک میلنگ کا بھی خطرہ
پولیس نے خبردار کیا ہے کہ ایسے فراڈ میں صرف مالی نقصان ہی نہیں بلکہ ذاتی معلومات، فون نمبرز اور تصاویر کے غلط استعمال اور بلیک میلنگ کا خطرہ بھی موجود ہے۔
پولیس کمشنر سجنار کے مطابق ابھی تک کسی متاثرہ شخص نے باضابطہ شکایت درج نہیں کروائی، تاہم پولیس ان اشتہارات کی نگرانی کر رہی ہے اور ان کے پیچھے موجود افراد کا سراغ لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ان کے مطابق ابتدائی معلومات سے ایسا لگتا ہے کہ یہ نیٹ ورک ممکنہ طور پر کسی دوسری ریاست سے چلایا جا رہا ہے۔
بھارت میں سائبر جرائم میں اضافہ
بھارت کے قومی جرائم ریکارڈ بیورو کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں سائبر جرائم کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
2022 میں 65,893 سائبر جرائم رپورٹ ہوئے، جبکہ 2023 میں یہ تعداد بڑھ کر 86,420 ہوگئی۔ 2024 میں سائبر جرائم کے ایک لاکھ سے زیادہ مقدمات درج کیے گئے۔
اعداد و شمار کے مطابق ان میں 18,615 واقعات خواتین کے خلاف تھے، جبکہ سائبر بلیک میلنگ کے 601 مقدمات میں سے 370 خواتین سے متعلق تھے۔
ماہرِ نفسیات کا والدین کو محتاط رہنے کا مشورہ

حیدرآباد کی ماہرِ نفسیات انیتا آرے نے والدین پر زور دیا ہے کہ وہ نوجوانوں، خصوصاً بلوغت کی عمر میں داخل ہونے والی لڑکیوں کے ساتھ کھلے انداز میں گفتگو کریں۔
ان کے مطابق اس عمر میں نوجوان نئے تعلقات اور دوستیوں کی طرف زیادہ متوجہ ہو سکتے ہیں، جس سے وہ ایسے دلکش آن لائن اشتہارات سے متاثر ہونے کا امکان رکھتے ہیں۔
انہوں نے والدین کو مشورہ دیا کہ بچوں سے سخت یا منفی انداز میں بات کرنے کے بجائے انہیں آن لائن تعلقات، اجنبی افراد اور ذاتی معلومات شیئر کرنے کے خطرات کے بارے میں سمجھایا جائے۔
پولیس نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ ایسے اشتہارات پر اعتماد نہ کریں، کسی اجنبی کو ذاتی معلومات یا تصاویر نہ بھیجیں اور کسی بھی مشتبہ آن لائن سرگرمی کی صورت میں فوری طور پر پولیس کو اطلاع دیں۔