Post Main Ad Panel
Read in English برآمدات میں اضافے اور صنعتی چیلنجز کا سدباب: وفاقی وزیر صنعت و پیداوار ہارون اختر خان کا دورہ فیصل آباد چیمبر، پی ایچ ایم اے کے وفد سے تفصیلی مذاکرات

برآمدات میں اضافے اور صنعتی چیلنجز کا سدباب: وفاقی وزیر صنعت و پیداوار ہارون اختر خان کا دورہ فیصل آباد چیمبر، پی ایچ ایم اے کے وفد سے تفصیلی مذاکرات

4 ویوز

فیصل آباد: 10 اکتوبر (ڈیجیٹل اطلاع): وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار اور وزیراعظم کے مشیر ہارون اختر خان نے فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے پاکستان ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے اعلیٰ سطحی وفد سے اہم ملاقات کی۔ میٹنگ میں پی ایچ ایم اے نارتھ زون کے چیئرمین میاں فرخ اقبال، مرکزی چیئرمین سید ضیاء علمدار حسین، اور سابق چیئرمین کاشف ضیاء سمیت دیگر اہم صنعتی شخصیات نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران ملک کی ٹیکسٹائل برآمدات بڑھانے، صنعتی پیداواری لاگت میں اضافے اور برآمد کنندگان کو درپیش چیلنجز پر تفصیلی غور کیا گیا۔

ملاقات کے دوران پی ایچ ایم اے نارتھ زون کے چیئرمین میاں فرخ اقبال نے اس امر پر زور دیا کہ بیرون ملک پاکستانی سفارتی مشنز اور کمرشل کونسلرز ملکی برآمدات کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ان مشنز پر بھاری وسائل خرچ کرتی ہے، اس لیے بین الاقوامی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کی ترویج اور خریداروں کے ساتھ براہ راست رابطے کے لیے ان کی خدمات کا مؤثر استعمال ناگزیر ہے۔ انہوں نے شکایت کی کہ بعض اوقات کمرشل کونسلرز سے رابطے میں تاخیر ہوتی ہے، جس کے تدارک کے لیے موثر لائحہ عمل بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے برآمدی شعبے کو سہولت دینے اور کاروبار دوست ماحول کی فراہمی کا بھی مطالبہ کیا۔

مرکزی چیئرمین پی ایچ ایم اے سید ضیاء علمدار حسین نے گزشتہ چار سال کے دوران صنعتی ان پٹ کاسٹ میں ہونے والے ہوشربا اضافے اعداد و شمار کے ساتھ پیش کیے۔ انہوں نے بتایا کہ اس عرصے میں بجلی کی قیمتوں میں 70 فیصد اور گیس کے نرخوں میں 100 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ کم از کم اجرت، سوشل سیکیورٹی اور ای او بی آئی کے اخراجات بھی تقریباً 48 فیصد بڑھ چکے ہیں۔ اس کے برعکس امریکی ڈالر کا ایکسچینج ریٹ 315 روپے سے کم ہو کر 277 روپے پر آ گیا ہے، جس سے برآمد کنندگان کی روپے میں آمدنی اور بین الاقوامی مارکیٹ میں مسابقتی صلاحیت شدید متاثر ہوئی ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل سیکٹر کو برآمدات کے فروغ کے لیے 6 سے 8 فیصد کی شرح سے ڈی ایل ٹی ایل کی سہولت فراہم کی جائے۔

سابق چیئرمین پی ایچ ایم اے کاشف ضیاء نے دنیا کے معروف ترین ریٹیل گروپس میں سے ایک "انڈی ٹیکس" کے حوالے سے برآمدی لاجسٹکس کی اہم پیشرفت سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت انڈی ٹیکس کی برآمدی کارگو لاہور اور کراچی سے دوحہ اور دبئی کے راستے یورپ جاتی ہے، تاہم انڈی ٹیکس سے مذاکرات کے بعد لاہور اور کراچی سے یورپ کے لیے براہ راست کارگو فریٹر پروازیں شروع کرنے کی تجویز پر کام جاری ہے۔ اس سلسلے میں متعلقہ ائیرپورٹس پر یورپی یونین کے معیار کے مطابق آڈٹ کا عمل مکمل ہو چکا ہے جس کے مثبت نتائج کی توقع ہے۔ اس اقدام سے ٹرانزٹ ٹائم میں کمی آئے گی اور پاکستانی برآمدات کو عالمی مارکیٹ تک رسائی میں بڑی سہولت ملے گی۔ انہوں نے وزارتِ تجارت کے رانا احسن افضل اور ٹیکسٹائل ڈائریکٹر جنرل مدثر رضا صدیقی کی کاوشوں کو بھی سراہا۔

وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے صنعتکاروں کے تمام مسائل اور تجاویز کو غور سے سنا اور ان کی تحسین کی۔ انہوں نے پی ایچ ایم اے کے وفد کو یقین دلایا کہ برآمد کنندگان کے دیرینہ مسائل کے حل اور ملکی برآمدات کو فروغ دینے کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ فوری اور نتیجہ خیز فالو اپ میٹنگز کا انعقاد کیا جائے گا۔

 

Post Bottom Ad Panel