Post Main Ad Panel
Read in English 21 سابق کرکٹ کپتانوں کا شہباز شریف سے عمران خان کو طبی سہولیات فراہم کرنے کا مطالبہ

21 سابق کرکٹ کپتانوں کا شہباز شریف سے عمران خان کو طبی سہولیات فراہم کرنے کا مطالبہ

16 ویوز

 

اسلام آباد، پاکستان: دنیا کے 21 سابق کرکٹ کپتانوں نے وزیرِ اعظم شہباز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ سابق پاکستانی کپتان اور وزیرِ اعظم عمران خان کو فوری طور پر طبی سہولیات فراہم کی جائیں، ان کی صحت کا آزادانہ طبی معائنہ کرایا جائے اور اہلِ خانہ کو باقاعدگی سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔

سابق کپتانوں نے وزیرِ اعظم کے نام خط میں تین مطالبات پیش کیے ہیں۔ ان میں سپریم کورٹ کے طبی سہولیات سے متعلق حکم پر عملدرآمد، عمران خان کی دائیں آنکھ سے متعلق مبینہ مسئلے کا آزادانہ طبی جائزہ اور علاج، جبکہ ہر ہفتے اہلِ خانہ سے ملاقات کی اجازت شامل ہے۔

خط پر دستخط کرنے والوں میں سابق بھارتی کپتان سنیل گواسکر، کپل دیو اور دلیپ وینگسرکر کے علاوہ سابق انگلش کپتان مائیک اتھرٹن، ناصر حسین، ایلسٹر کک اور اینڈریو اسٹراس شامل ہیں۔

دیگر سابق کپتانوں میں گریگ چیپل، ایان چیپل، ارجونا رانا ٹونگا، ایلن بارڈر، اسٹیو وا، ڈیوڈ گاور، جان رائٹ اور سر کلائیو لائیڈ بھی شامل ہیں۔

سابق کرکٹرز نے خط میں واضح کیا کہ وہ سیاست دان کی حیثیت سے نہیں بلکہ عمران خان کے سابق ساتھی کرکٹرز کی حیثیت سے یہ مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق کرکٹ نے مختلف ممالک اور نظریات سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو ایک دوسرے سے جوڑنے کا کردار ادا کیا ہے۔

آزادانہ طبی معائنے کا مطالبہ

یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عمران خان کو 20 اگست کی شب راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) منتقل کیا گیا تھا، جہاں طبی معائنے کے بعد انہیں دوبارہ جیل منتقل کر دیا گیا۔

حکومت کا کہنا ہے کہ سکیورٹی خدشات کے باعث عمران خان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل نہیں کیا جا سکا، حالانکہ سپریم کورٹ نے انہیں وہاں طبی سہولیات فراہم کرنے کا حکم دیا تھا۔

حکومت کے مطابق پمز میں طبی معائنے کے بعد عمران خان کو صحت مند قرار دیا گیا۔ تاہم پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ عدالتی حکم پر مکمل عمل نہیں کیا گیا اور اس سلسلے میں توہینِ عدالت کی درخواست بھی دائر کی گئی ہے۔

سابق کپتانوں نے مطالبہ کیا ہے کہ سپریم کورٹ کی ہدایت پر تشکیل دیے گئے میڈیکل بورڈ کو عمران خان کی صحت کا مکمل اور آزادانہ جائزہ لینے کی اجازت دی جائے، بالخصوص ان کی دائیں آنکھ کی بینائی متاثر ہونے کی اطلاعات کی بھی جانچ کی جائے۔

انہوں نے عمران خان کے اہلِ خانہ کو ہر ہفتے ملاقات کی اجازت دینے اور ملاقات میں کسی قسم کی انتظامی رکاوٹ نہ ڈالنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

اہلِ خانہ کے طبی خدشات

عمران خان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان، جنہوں نے پمز میں طبی معائنے کے دوران ان سے ملاقات کی تھی، نے بعد میں دعویٰ کیا کہ عمران خان نے قیدِ تنہائی اور علاج میں تاخیر کے بارے میں شکایات کیں۔

پی ٹی آئی طویل عرصے سے یہ الزام عائد کرتی رہی ہے کہ عمران خان کو اڈیالہ جیل میں قیدِ تنہائی کا سامنا ہے اور انہیں مناسب طبی سہولیات فراہم نہیں کی جا رہیں۔ حکومت ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہتی ہے کہ عمران خان کو ضرورت کے مطابق طبی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا تھا کہ سکیورٹی صورتحال کے باعث عمران خان کو شفا ہسپتال کے بجائے پمز منتقل کیا گیا۔ ان کے مطابق طبی معائنے کے دوران شفا ہسپتال کے ڈاکٹرز بھی موجود تھے۔

حکومت نے سابق کرکٹ کپتانوں کے تازہ خط پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا۔

کسی پاکستانی سابق کپتان کا نام شامل نہیں

یہ خط رواں برس فروری میں لکھے گئے ایک خط کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں 14 سابق ٹیسٹ کپتانوں نے حکومت پاکستان سے عمران خان کو اپنی پسند کے ڈاکٹروں سے علاج اور اہلِ خانہ سے ملاقات کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا تھا۔

تازہ خط میں سابق کپتانوں کی تعداد 21 ہو گئی ہے، تاہم اس میں بھی کسی پاکستانی سابق کپتان کا نام شامل نہیں۔

اس معاملے پر سوشل میڈیا پر پہلے بھی بحث اور تنقید سامنے آ چکی ہے۔ سابق پاکستانی کپتان وسیم اکرم اور رمیز راجہ نے الگ الگ مواقع پر عمران خان کو طبی سہولیات فراہم کرنے کی حمایت کی ہے۔

سابق کپتانوں نے اپنے خط میں کہا کہ عمران خان کی قانونی حیثیت سے قطع نظر، سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں ان کے طبی معائنے اور علاج کا مطالبہ کسی صورت متنازع نہیں ہونا چاہیے۔

 
 
Post Bottom Ad Panel