Post Main Ad Panel
Read in English سپریم کورٹ کا تحریری حکم: عمران خان کو دو روز میں شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کی ہدایت

سپریم کورٹ کا تحریری حکم: عمران خان کو دو روز میں شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کی ہدایت

28 ویوز

 

اسلام آباد، 18 اگست 2026: سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کی صحت سے متعلق درخواستوں پر تحریری حکم جاری کرتے ہوئے انہیں آئندہ دو روز کے اندر شفا انٹرنیشنل ہسپتال، اسلام آباد منتقل کرنے کا حکم دے دیا۔

عدالت نے حکم دیا کہ عمران خان کے طبی معائنے اور علاج کے لیے شفا انٹرنیشنل ہسپتال کی انتظامیہ سے مشاورت کے بعد ایک میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے، جس میں معالج، جنرل سرجن، ماہرِ طب، ماہرِ چشم اور ماہرِ امراضِ قلب شامل ہوں گے۔

سپریم کورٹ نے عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان اور ان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان کو بھی طبی معائنے اور علاج کے عمل میں شریک رہنے کی اجازت دی ہے۔

ہفتے میں دو مرتبہ بیٹوں سے ٹیلی فون پر بات کی اجازت

عدالت نے عمران خان کو اپنے بیٹوں سے ہفتے میں دو مرتبہ ٹیلی فون پر بات کرنے کی سہولت فراہم کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔

اس کے علاوہ حکومت کو عمران خان اور ان کے اہلِ خانہ کے درمیان ہفتے میں ایک ملاقات یقینی بنانے کے لیے سہولت فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

قیدی کے انسانی حقوق پر سپریم کورٹ کا مؤقف

تحریری حکم میں سپریم کورٹ نے کہا کہ ریاست اور عدالت کی آئینی و قانونی ذمہ داری ہے کہ زیرِ حراست افراد کی زندگی، صحت، عزت و وقار اور سلامتی کا تحفظ کیا جائے۔

عدالت نے واضح کیا کہ محض قید میں ہونے کی وجہ سے کوئی قیدی انسانی سلوک اور ضروری طبی نگہداشت کے حق سے محروم نہیں ہوتا۔

میڈیکل اخراجات عمران خان یا خاندان برداشت کرے گا

عدالت نے قرار دیا کہ شفا انٹرنیشنل ہسپتال کی جانب سے فراہم کیے جانے والے علاج اور دیگر سہولیات کے ضروری اخراجات عمران خان یا ان کا خاندان برداشت کرے گا۔

حکومت کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ عمران خان کے ہسپتال میں قیام کے دوران مناسب سکیورٹی انتظامات کیے جائیں۔

صحت سے متعلق معلومات میڈیا پر جاری کرنے پر پابندی

سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ اگلی سماعت تک عمران خان کے اہلِ خانہ، سیاسی جماعت کے ارکان یا ان سے وابستہ وکلا ان کی صحت یا میڈیکل رپورٹس سے متعلق معلومات میڈیا یا عام لوگوں کے ساتھ شیئر نہیں کریں گے۔

عدالت نے عمران خان، ان کے خاندان اور متعلقہ افراد کو طبی رپورٹس یا صحت سے متعلق معلومات سیاسی فائدے کے لیے استعمال کرنے سے بھی روک دیا ہے۔

اس کے علاوہ عمران خان کی سیاسی جماعت اور خاندان کو ہدایت کی گئی ہے کہ شفا انٹرنیشنل ہسپتال کے احاطے میں کوئی عوامی اجتماع منعقد نہ کیا جائے۔

حکومت کے اعتراضات اگلی سماعت پر زیرِ غور آئیں گے

تحریری حکم کے مطابق حکومتی وکیل نے درخواست کے قابلِ سماعت ہونے پر اعتراض اٹھایا تھا اور مؤقف اختیار کیا تھا کہ درخواست ناقابلِ سماعت ہونے کے باعث عمران خان کسی ریلیف کے حقدار نہیں۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ درخواست کے قابلِ سماعت ہونے کا سوال اور حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے دیگر اعتراضات آئندہ سماعت پر زیرِ غور لائے جائیں گے۔

عدالت نے جسٹس ڈوگر کی جانب سے دیے گئے سابقہ فیصلوں پر بھی عدم اطمینان کا اظہار کیا۔

میڈیکل رپورٹس اگلی سماعت پر پیش کرنے کا حکم

سپریم کورٹ نے ہدایت کی ہے کہ شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں عمران خان کے طبی معائنے اور علاج کی مکمل رپورٹس 16 ستمبر 2026 کو ہونے والی آئندہ سماعت پر عدالت کے سامنے پیش کی جائیں۔

عدالت نے واضح کیا کہ حکم کی کسی بھی ہدایت کی خلاف ورزی کو سختی سے لیا جائے گا اور فراہم کی گئی سہولیات واپس بھی لی جا سکتی ہیں۔

اگلی سماعت 16 ستمبر 2026 کو مقرر کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

Post Bottom Ad Panel