Post Main Ad Panel
Read in English پنجاب کے اسپتالوں میں باڈی کیمرے لازمی قرار دینے پر طبی عملے کے تحفظات

پنجاب کے اسپتالوں میں باڈی کیمرے لازمی قرار دینے پر طبی عملے کے تحفظات

28 ویوز

ڈاکٹرز، نرسز اور دیگر ملازمین کا فیصلے پر اعتراض، مریضوں کی رازداری متاثر ہونے کا خدشہ

لاہور، 12 اگست 2026: پنجاب حکومت کی جانب سے سرکاری اسپتالوں کے عملے کے لیے باڈی کیمرے لازمی قرار دینے کے فیصلے پر طبی عملے اور حکام نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس اقدام پر اسٹیک ہولڈرز سے مناسب مشاورت نہیں کی گئی اور اس سے مریضوں کی رازداری، وقار اور بنیادی حقوق متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔

باڈی کیمرے پہننے کے قابل آڈیو اور ویڈیو ریکارڈنگ آلات ہوتے ہیں جن کے ذریعے کسی واقعے یا کارروائی کی فوٹیج محفوظ کی جاتی ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اسپتالوں میں عملے کے رویے، غفلت اور لاپروائی سے متعلق عوامی شکایات کے بعد ڈاکٹروں کے علاوہ نرسوں، وارڈ بوائز، سیکیورٹی گارڈز اور فارمیسی عملے کے لیے بھی باڈی کیمرے لازمی قرار دینے کا اعلان کیا تھا۔

طبی تنظیموں نے فیصلے کو ناقابلِ عمل قرار دے دیا

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (PMA) پنجاب کے صدر ڈاکٹر اظہار احمد چوہدری نے فیصلے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے طبی شعبے سے وابستہ افراد یا متعلقہ فورمز سے مشاورت نہیں کی۔

ان کے مطابق باڈی کیمروں کا یہ فیصلہ صحت کے نظام میں بہتری کے بجائے الٹا نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے اور طبی عملے کے بنیادی حقوق بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔

انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ صحت کے شعبے میں موجود بنیادی مسائل کے حل اور طبی سہولیات کی بہتری پر توجہ دی جائے۔

ینگ ڈاکٹرز: ’ہم سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی‘

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن (YDA) پنجاب کے صدر ڈاکٹر شعیب نیازی نے بھی فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ ان سے اس معاملے پر کوئی مشاورت نہیں کی گئی اور فیصلہ اعلیٰ سطح سے آیا ہے۔ ان کے مطابق ماضی میں اسپتالوں میں موبائل فون کے استعمال پر پابندی جیسے بعض فیصلوں پر بھی مؤثر عمل درآمد نہیں ہوسکا۔

ڈاکٹر نیازی نے خاص طور پر مریضوں کی رازداری کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ گائنی اور لیبر وارڈز جیسے حساس شعبوں میں باڈی کیمروں کی ریکارڈنگ انتہائی نجی نوعیت کی معلومات پر مشتمل ہوسکتی ہے۔

انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ باڈی کیمروں کی خریداری اور دیکھ بھال کے لیے فنڈز کہاں سے فراہم کیے جائیں گے۔

نرسنگ اسٹاف بھی فیصلے سے لاعلم

پنجاب ینگ نرسز ایسوسی ایشن کی رکن مقدس تسنیم نے کہا کہ نرسیں اس فیصلے کی اہم اسٹیک ہولڈرز ہیں، تاہم ان سے بھی مشاورت نہیں کی گئی۔

ان کے مطابق حکومت نے فیصلہ خود کیا ہے اور طبی عملے کو اب حکومتی ہدایات پر عمل کرنا ہوگا۔

لاہور جنرل اسپتال کے دیگر عملے کی نمائندگی کرنے والی تنظیم کے صدر جنید طارق نے بھی کہا کہ اسٹیک ہولڈرز کو فیصلے سے متعلق اعتماد میں نہیں لیا گیا۔

انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ باڈی کیمروں کے استعمال سے مریضوں کے طبی ریکارڈ اور نجی معلومات کی رازداری متاثر ہوسکتی ہے۔

سابق وزیر صحت نے فیصلے پر عملی سوالات اٹھا دیے

پنجاب کے سابق نگران وزیر صحت اور یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز لاہور کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اکرم نے بھی فیصلے کے عملی پہلو پر سوالات اٹھائے۔

انہوں نے کہا کہ اتنی بڑی تعداد میں طبی عملے کو باڈی کیمرے فراہم کرنے، ان کی نگرانی اور ریکارڈنگ کا تجزیہ کرنے کا نظام کیسے قائم کیا جائے گا، اس بارے میں واضح ہونا ضروری ہے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر کسی ملازم کو آرام گاہ یا دیگر نجی جگہ استعمال کرنا ہو تو کیمرے کے استعمال سے متعلق کیا طریقہ کار اختیار کیا جائے گا۔

دنیا میں باڈی کیمروں کا محدود استعمال

دنیا کے بعض ممالک میں اسپتالوں میں باڈی کیمروں کے تجربات کیے گئے ہیں، تاہم عام طور پر ان کا استعمال سیکیورٹی عملے یا تشدد کے زیادہ خطرے والے حالات تک محدود رکھا جاتا ہے۔

آسٹریلیا کی ریاست نیو ساؤتھ ویلز میں بعض سرکاری اسپتالوں کے سیکیورٹی عملے کو جارحیت اور تشدد کے واقعات کی ریکارڈنگ اور روک تھام کے لیے باڈی کیمرے فراہم کیے گئے ہیں۔

برطانیہ میں بھی بعض نیشنل ہیلتھ سروسز (NHS) ٹرسٹس نے سیکیورٹی اہلکاروں اور مخصوص حالات میں سینئر نرسنگ اسٹاف کے لیے باڈی کیمروں کے تجربات کیے ہیں۔

تاہم طبی ماہرین کے مطابق اسپتال کے تمام شعبوں اور مختلف نوعیت کے عملے کے لیے باڈی کیمروں کا وسیع پیمانے پر لازمی استعمال ایک غیر معمولی اقدام ہوگا، خصوصاً ایسے ماحول میں جہاں مریضوں کی رازداری اور طبی معلومات کے تحفظ کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔

 
 
 
Post Bottom Ad Panel