Post Main Ad Panel
Read in English پاکستان کا افغانستان میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں کا دعویٰ، طالبان کا شہری ہلاکتوں کا الزام

پاکستان کا افغانستان میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں کا دعویٰ، طالبان کا شہری ہلاکتوں کا الزام

18 ویوز

 

اسلام آباد (یکم اکتوبر 2026ء): پاکستان کی حکومت نے کہا ہے کہ اس کی افواج نے افغانستان میں مبینہ شدت پسندوں کے دو ٹھکانوں کو ’’مصدقہ انٹیلیجنس اطلاعات‘‘ کی بنیاد پر فضائی کارروائی میں نشانہ بنایا، جبکہ افغان طالبان حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت نو شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

پاکستان کی وزارت اطلاعات کے مطابق کارروائیوں میں 22 مبینہ شدت پسند ہلاک ہوئے اور بڑی مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود بھی تباہ کیا گیا۔

وزارت نے کہا کہ فضائی حملے شدت پسند تنظیموں کے ٹھکانوں، ان کے نیٹ ورکس اور مبینہ سہولت کاروں کے خلاف انتہائی درستگی کے ساتھ کیے گئے۔

پاکستانی حکام نے تاہم ان کارروائیوں کے مخصوص مقامات کی نشاندہی نہیں کی۔

دوسری جانب طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے الزام عائد کیا کہ پاکستانی طیاروں نے افغانستان کے صوبوں کنڑ اور ہلمند میں شہری آبادیوں کو نشانہ بنایا۔

مجاہد نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ صوبہ کنڑ کے علاقے چوغم اور ہلمند کے گرمسیر میں شہریوں کے گھروں پر بمباری کی گئی، جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت نو افراد ہلاک اور 11 زخمی ہوئے۔

انہوں نے کارروائی کو ’’جارحیت‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ افغان حکومت اس کی مذمت کرتی ہے۔

دونوں جانب سے کیے گئے دعووں کی آزادانہ طور پر فوری تصدیق نہیں ہو سکی۔


پاکستان اور افغانستان میں کشیدگی

تازہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب گزشتہ چند دنوں کے دوران پاکستان اور افغانستان کے درمیان پہلے سے کشیدہ تعلقات میں مزید تناؤ دیکھا گیا ہے۔

پاکستان نے 21 اور 24 ستمبر کو بھی افغانستان میں مبینہ شدت پسندوں اور خودکش بمباروں کے مراکز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔

21 ستمبر کی کارروائی کے بارے میں پاکستان نے کہا تھا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (TTP) اور اس سے وابستہ گروہوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا اور 28 مبینہ شدت پسند ہلاک ہوئے۔

پاکستان کے مطابق کارروائی میں خودکش بمباروں کے ایک تربیتی مرکز سمیت تین اہداف کو تباہ کیا گیا تھا۔

افغان طالبان نے ان حملوں کے بعد پاکستان پر عام شہریوں کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا تھا اور خواتین سمیت شہریوں کی ہلاکتوں کی اطلاع دی تھی۔


پاکستان کا مؤقف

پاکستان کا طویل عرصے سے مؤقف ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف حملے کرنے والے شدت پسند گروہوں کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ پاکستانی حکام خصوصاً تحریک طالبان پاکستان کے ٹھکانوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔

طالبان حکومت اس الزام کی تردید کرتی ہے اور کہتی ہے کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔

23 ستمبر کو پاکستان کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ افغانستان سے آنے والے تقریباً آٹھ ڈرونز کو فضا میں تباہ کر دیا گیا۔

حالیہ فضائی کارروائیوں کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان سکیورٹی اور سرحدی صورتحال پر کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے، تاہم دونوں جانب سے جاری کیے گئے ہلاکتوں اور اہداف سے متعلق دعووں کی آزادانہ تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔

Post Bottom Ad Panel