بھارت کا ’شہزاد بھٹی نیٹ ورک‘ کے خلاف کارروائی کا دعویٰ، پاکستان نے الزامات مسترد کر دیے
اسلام آباد: بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارتی سکیورٹی اداروں نے یومِ آزادی سے قبل مبینہ شدت پسند تنظیم ’شہزاد بھٹی نیٹ ورک‘ کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 200 سے زائد افراد کو گرفتار کیا اور تنظیم کے تخریبی حملوں کے منصوبے ناکام بنا دیے۔
پاکستان نے بھارتی وزیر داخلہ کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے اسے پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔ پاکستانی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ بھارت ایسے الزامات کے ذریعے اپنے داخلی سکیورٹی مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔
امیت شاہ کا کیا دعویٰ ہے؟
امیت شاہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ بھارتی سکیورٹی فورسز نے 14 ریاستوں میں مختلف مقامات پر مربوط کارروائیاں کرتے ہوئے مبینہ ’شہزاد بھٹی نیٹ ورک‘ کو توڑ دیا۔
ان کے مطابق یہ کارروائیاں بھارت کی دہشت گردی کے خلاف ’زیرو ٹالرنس‘ پالیسی کا حصہ تھیں۔
امیت شاہ نے دعویٰ کیا کہ کارروائیوں کے دوران بڑی مقدار میں اسلحہ اور بارود برآمد کیا گیا، جس میں مبینہ طور پر پاکستان آرڈیننس فیکٹری کے نشانات والے دستی بم، پستول، گولیاں اور نگرانی کے لیے استعمال ہونے والے سی سی ٹی وی کیمرے بھی شامل ہیں۔
بھارت کے شہزاد بھٹی پر الزامات
بھارتی نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) اس سے قبل بھی شہزاد بھٹی پر بھارت میں مبینہ شدت پسندانہ کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور ایک نیٹ ورک چلانے کے الزامات عائد کر چکی ہے۔
این آئی اے کے مطابق جون 2026 میں پنجاب اور ہریانہ کے نو اضلاع میں 18 مقامات پر چھاپے مارے گئے۔ ادارے کا کہنا تھا کہ کارروائیوں کے دوران ڈیجیٹل آلات، دستاویزات اور دیگر شواہد قبضے میں لیے گئے۔
این آئی اے نے شہزاد بھٹی کو مارچ 2025 میں جالندھر میں سوشل میڈیا انفلوئنسر راجر سندھو کی رہائش گاہ پر مبینہ گرینیڈ حملے سے بھی جوڑا ہے۔ ادارے کے مطابق اپریل 2026 میں انہیں اس مقدمے میں مفرور ملزم قرار دیا گیا۔
بھارتی تحقیقاتی ادارے نے شہزاد بھٹی پر نومبر 2025 میں ہریانہ کے ضلع سرسا کے ایک پولیس اسٹیشن اور جنوری 2026 میں امبالہ کے بلدیو نگر پولیس اسٹیشن میں ہونے والے دھماکوں کی مبینہ منصوبہ بندی کا بھی الزام عائد کیا ہے۔
جولائی میں این آئی اے نے بلدیو نگر پولیس اسٹیشن کی پارکنگ میں کار بم دھماکے کے مقدمے میں شہزاد بھٹی سمیت آٹھ افراد کے خلاف چارج شیٹ بھی دائر کرنے کا اعلان کیا تھا۔
شہزاد بھٹی نے الزامات مسترد کر دیے
شہزاد بھٹی نے سوشل میڈیا پر جاری ویڈیوز میں بھارتی حکام کی جانب سے عائد الزامات کو مسترد کیا ہے۔
انہوں نے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا کہ اگر ان کے خلاف ثبوت موجود ہیں تو انہیں سامنے لایا جائے۔ انہوں نے پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی سے تعلق کے الزام کی بھی تردید کی۔
تاہم، ایک ویڈیو میں خود کو شہزاد بھٹی بتانے والے شخص نے یہ دعویٰ کیا کہ بھارت میں کچھ لوگ ان کے لیے کام کرتے ہیں، تاہم انہوں نے ان افراد کی سرگرمیوں کی تفصیلات نہیں بتائیں۔
لارنس بشنوئی سے مبینہ تعلق
شہزاد بھٹی نے ایک اور ویڈیو میں بھارتی گینگسٹر لارنس بشنوئی کے ساتھ سابقہ تعلق کا دعویٰ کیا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ بعد میں یہ تعلق ختم ہوگیا۔
بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا پر یہ دعوے بھی سامنے آتے رہے ہیں کہ شہزاد بھٹی متحدہ عرب امارات میں مقیم ہیں، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔
ان کے نام سے منسوب سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر ایسی تصاویر اور ویڈیوز بھی موجود ہیں جن میں انہیں دبئی کے مختلف مقامات پر دیکھا جا سکتا ہے۔
پاکستان کا ردعمل
پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے امیت شاہ کے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس قسم کے الزامات پاکستان کے خلاف بھارتی پروپیگنڈا مہم کا حصہ ہیں۔
وزارتِ خارجہ کے مطابق بھارت اپنے داخلی سکیورٹی چیلنجز سے توجہ ہٹانے اور ملکی سیاسی مفادات حاصل کرنے کے لیے پاکستان کو موردِ الزام ٹھہراتا ہے۔
دونوں ممالک ایک دوسرے پر سرحد پار شدت پسندی اور تخریبی سرگرمیوں کی حمایت کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں، جبکہ پاکستان بھارتی الزامات کی تردید کرتا ہے۔