مخصوص نشست سے وزیراعظم بننے والے افتخار گیلانی، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی سیاست میں نئی بحث
مظفرآباد، 28 اگست 2026ء — پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما بیرسٹر افتخار گیلانی کو وزیراعظم منتخب کر لیا ہے، تاہم عام انتخابات میں شکست کے بعد مخصوص نشست کے ذریعے اسمبلی میں پہنچنے والے رہنما کی وزارتِ عظمیٰ تک رسائی نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
افتخار گیلانی نے وزیراعظم کے انتخاب میں 30 ووٹ حاصل کیے، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار مختار احمد عباسی کو 14 ووٹ ملے۔
یہ انتخاب ایسے وقت میں ہوا ہے جب پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں حالیہ احتجاجی تحریک، ملتوی ہونے والے انتخابات اور حکومت سازی کے عمل نے سیاسی ماحول کو غیر معمولی طور پر متاثر کیا ہے۔
عام انتخابات میں شکست، مخصوص نشست سے اسمبلی میں واپسی
افتخار گیلانی حالیہ عام انتخابات میں مظفرآباد کے حلقے سے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار تھے، جہاں انہیں پیپلز پارٹی کے امیدوار مختار احمد عباسی نے شکست دی تھی۔
اس سے قبل 2021 کے عام انتخابات میں بھی وہ کامیاب نہیں ہو سکے تھے۔
تاہم بعد میں گیلانی کو ٹیکنوکریٹ کی مخصوص نشست پر اسمبلی کا رکن منتخب کیا گیا، جس کے بعد مسلم لیگ (ن) نے انہیں وزارتِ عظمیٰ کے لیے اپنا امیدوار نامزد کیا۔
افتخار گیلانی نے اپنی نامزدگی پر ہونے والی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مخصوص نشست پر منتخب ہونے والے رکن کے وزیراعظم بننے پر آئینی یا اخلاقی پابندی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی مخصوص نشست سے منتخب ہونے والا شخص وزیراعظم رہ چکا ہے۔
30 ووٹ لے کر وزیراعظم منتخب
53 رکنی قانون ساز اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کو 32 ارکان کی حمایت حاصل تھی، تاہم پارٹی کے اندر بھی گیلانی کی نامزدگی پر اختلافات سامنے آئے۔
گیلانی کو مجموعی طور پر 30 ارکان نے ووٹ دیا، جبکہ ان کے مدِمقابل مختار احمد عباسی نے 14 ووٹ حاصل کیے۔
مسلم لیگ (ن) کے صدر شاہ غلام قادر نے گیلانی کو ووٹ نہیں دیا۔ شاہ غلام قادر خود بھی وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار بننے کے خواہش مند تھے لیکن پارٹی قیادت نے انہیں نامزد نہیں کیا تھا۔
شاہ غلام قادر کا کھلا اختلاف
مسلم لیگ (ن) کے صدر شاہ غلام قادر نے گیلانی کی نامزدگی پر سخت اصولی اختلاف کا اظہار کیا ہے۔
ان کے مطابق ایسے شخص کو وزیراعظم نہیں بننا چاہیے جو گزشتہ دونوں انتخابات میں شکست کھا چکا ہو۔
شاہ غلام قادر نے کہا کہ ان کا گیلانی سے کوئی ذاتی اختلاف نہیں، تاہم ان کے خیال میں وزیراعظم کا عہدہ ایسے شخص کو ملنا چاہیے جو براہِ راست عوام کے ووٹ سے منتخب ہو کر اسمبلی میں آیا ہو۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی کی جانب سے وزیراعظم کے امیدوار کے انتخاب کا اختیار نواز شریف کو دیا گیا تھا، تاہم وہ اس معاملے پر نواز شریف سے براہِ راست بات نہیں کر سکے۔
افتخار گیلانی: ’آج میں پورے کشمیر کا نمائندہ ہوں‘
نومنتخب وزیراعظم افتخار گیلانی نے اپنی کامیابی پر کہا کہ پارٹی قیادت کے اعتماد کا اظہار انہیں ملنے والے ووٹوں سے ہو گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عام انتخابات سے قبل وہ صرف مظفرآباد کے نمائندے تھے، لیکن اب منتخب ارکان کے ووٹوں کے ذریعے وہ پورے کشمیر کی نمائندگی کر رہے ہیں۔
گیلانی نے کہا کہ مخصوص نشست سے اسمبلی میں آنے والے رکن کے وزیراعظم بننے پر کوئی آئینی پابندی نہیں اور ماضی میں بھی ایسی مثال موجود ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ تنقید ہر معاملے پر کی جا سکتی ہے، لیکن ان کی توجہ اب حکومت چلانے اور عوام کے لیے کام کرنے پر ہے۔
’سیاسی طور پر متحد اور معاشی طور پر مضبوط ریاست‘
افتخار گیلانی نے ایک تحریری بیان میں کہا کہ ان کا تصورِ حکومت ایک ایسی ریاست پر مبنی ہے جو سیاسی طور پر متحد، معاشی طور پر مضبوط اور انتظامی طور پر شفاف ہو۔
انہوں نے نوجوانوں کے لیے روزگار اور ترقی کے مواقع پیدا کرنے، اداروں کو مضبوط بنانے اور عوامی خدمت کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا۔
گیلانی کے مطابق سیاسی عہدے عارضی ہوتے ہیں، جبکہ عوام کی خدمت اور بہتر ادارہ جاتی نظام کسی بھی قیادت کا اصل ورثہ ہوتا ہے۔
احتجاجی تحریک کے دوران انتخابات
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں حالیہ عام انتخابات ایک غیر معمولی سیاسی ماحول میں ہوئے۔
علاقے میں جاری احتجاجی تحریک کے باعث انتخابات تین مراحل میں کرائے گئے جبکہ پونچھ اور سدھنوتی اضلاع کی سات نشستوں پر امن و امان کی صورتحال کے باعث انتخابات ملتوی کر دیے گئے۔
ان حلقوں میں سے بیشتر ضلع پونچھ میں واقع ہیں، جہاں جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکن اور حامی احتجاج اور دھرنے میں موجود رہے ہیں۔
اس صورتحال کے باعث نئی حکومت کو ابتدا ہی سے سیاسی، انتظامی اور معاشی چیلنجز کا سامنا ہے۔
ماضی میں بھی مخصوص نشست سے وزیراعظم منتخب ہوا
افتخار گیلانی کا کہنا ہے کہ مخصوص نشست سے منتخب ہو کر وزیراعظم بننے کی ماضی میں بھی مثال موجود ہے۔
مسلم کانفرنس کے رہنما سردار عبدالقیوم خان علما و مشائخ کی مخصوص نشست پر منتخب ہونے کے بعد 1991 سے 1996 تک پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیراعظم رہے تھے۔
نئی حکومت کے لیے بڑے چیلنجز
افتخار گیلانی کو اب ایسی حکومت کی قیادت کرنا ہوگی جسے احتجاجی تحریک کے اثرات، سیاسی اختلافات اور عوامی مطالبات کا سامنا ہے۔
ان کی اپنی جماعت کے اندر وزیراعظم کے انتخاب پر سامنے آنے والے اختلافات بھی نئی حکومت کے لیے ایک اہم سیاسی چیلنج بن سکتے ہیں۔
نومنتخب وزیراعظم کا کہنا ہے کہ وہ ماضی کے انتخابی اختلافات کو پیچھے چھوڑ کر نظام کے اندر رہتے ہوئے ریاست کے عوام کے لیے کام کرنا چاہتے ہیں۔