(ڈیجیٹل اطلاع) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما عبداللہ طاہر کے قتل کے معاملے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں گرفتار شوٹرز نے انکشاف کیا ہے کہ اس قتل کو مکمل منصوبہ بندی کے تحت انجام دیا گیا تھا۔
تفتیشی ذرائع کے مطابق مقتول کے قتل کی باقاعدہ منصوبہ بندی کی گئی تھی اور اس مقصد کے لیے ڈرون کیمرے استعمال کرکے ان کی لوکیشن چیک کی جاتی رہی ہے۔ ڈرون کیمروں کی سہولت کے حصول کے لیے بھاری رقم بھی خرچ کی گئی، جبکہ تفتیشی حکام کی جانب سے مقتول کے گھر کے اطراف میں ڈرونز کی پروازوں سے متعلق اطلاعات کا بھی باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔
تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ملزمان نے واردات کے لیے کرائے کی ایک گاڑی پر جعلی نمبر پلیٹ لگا رکھی تھی، اور واردات کے فوری بعد گاڑی پر دوبارہ اصل نمبر پلیٹ لگا دی گئی۔
تفتیشی ذرائع کے مطابق یہ گاڑی گوجرانوالہ سے کرائے پر حاصل کی گئی تھی، اور مرکزی ملزم ارسلان جٹ ان شوٹرز کو اسی گاڑی میں گوجرانوالہ سے لاہور لے کر آیا تھا۔
پولیس نے مقدمے میں مبینہ سہولت کاری کے الزام میں اب تک 6 افراد کو حراست میں لے رکھا ہے، جبکہ مرکزی شوٹرز تاحال قانون کی گرفت سے باہر ہیں جن کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔