کافی پینے سے پیٹ کی چربی کم ہو سکتی ہے؟ فن لینڈ کی تحقیق میں اہم دعویٰ
ہیلسنکی: پیٹ اور کمر کے گرد جمع ہونے والی چربی، جسے طبی اصطلاح میں ویسریل فیٹ (Visceral Fat) کہا جاتا ہے، صحت کے لیے نقصان دہ سمجھی جاتی ہے۔ یہ اہم اندرونی اعضا کے گرد جمع ہوتی ہے اور دل کی بیماریوں، ٹائپ 2 ذیابیطس اور دیگر طبی مسائل کے خطرے سے منسلک ہے۔
فن لینڈ کی Oulu یونیورسٹی میں ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ باقاعدگی سے کافی پینے والے افراد میں مجموعی جسمانی چربی اور پیٹ کے گرد موجود چربی نسبتاً کم دیکھی گئی۔
تحقیق میں شمالی فن لینڈ کے ایک طویل مدتی سروے میں شامل 2,264 افراد کا جائزہ لیا گیا، جن کی اوسط عمر 46 سال تھی۔ محققین نے شرکا کی کافی پینے کی عادات اور ان کی صحت سے متعلق مختلف عوامل کا تجزیہ کیا۔
نتائج کے مطابق کافی استعمال کرنے والے افراد میں پیٹ کے گرد چربی اور مجموعی جسمانی چربی کی مقدار کافی نہ پینے والوں کے مقابلے میں کم تھی۔
محققین کے مطابق کافی کا استعمال بعض ایسے امینو ایسڈز کی سطح میں کمی سے بھی منسلک تھا جنہیں انسولین مزاحمت اور ٹائپ 2 ذیابیطس سے جوڑا جاتا ہے۔
تحقیق میں یہ بھی مشاہدہ کیا گیا کہ کافی کے ممکنہ میٹابولک اثرات مردوں میں زیادہ نمایاں تھے، جہاں گلوکوز اور انسولین کی سطح کے ساتھ ہارمونز سے متعلق بعض تبدیلیاں بھی دیکھی گئیں۔ خواتین میں یہ اثرات اتنے واضح نہیں تھے۔
محققین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں کروڑوں افراد روزانہ کافی استعمال کرتے ہیں، تاہم اس مشروب کے ہارمونز اور میٹابولزم پر اثرات کے بارے میں ابھی مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
ان کے مطابق آئندہ مطالعات میں یہ جاننے کی کوشش کی جائے گی کہ کافی جسم میں کون سی حیاتیاتی تبدیلیاں پیدا کرتی ہے اور اس کے کون سے اجزا ان اثرات کے ذمہ دار ہیں۔
تحقیق کے نتائج European Journal of Nutrition میں شائع ہوئے۔
نوٹ: تحقیق میں کافی پینے اور کم چربی کے درمیان تعلق دیکھا گیا ہے، لیکن اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ صرف کافی پینے سے پیٹ کی چربی لازماً کم ہو جاتی ہے۔