Post Main Ad Panel
Read in English ٹانک میں پولیس کی بکتر بند گاڑی پر بم حملہ، 6 اہلکار شہید

ٹانک میں پولیس کی بکتر بند گاڑی پر بم حملہ، 6 اہلکار شہید

25 ویوز

ایڈیشنل ایس ایچ او بھی شہدا میں شامل، علاقے میں سرچ آپریشن جاری

ٹانک، 12 اگست 2026: خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک میں پولیس کی بکتر بند گاڑی کو بم دھماکے میں نشانہ بنائے جانے کے نتیجے میں 6 پولیس اہلکار شہید ہوگئے۔

پولیس ترجمان کے مطابق بکتر بند گاڑی گومل پولیس اسٹیشن سے ٹانک کی جانب جا رہی تھی کہ راستے میں اسے دھماکے کا نشانہ بنایا گیا۔ دھماکے میں ایک ایڈیشنل اسٹیشن ہاؤس آفیسر (اے ایس ایچ او) سمیت 6 پولیس اہلکار جان کی بازی ہار گئے۔

ریسکیو 1122 کی ٹیموں نے شہید اہلکاروں کی لاشیں ٹانک ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال منتقل کر دیں۔

علاقے میں سرچ آپریشن جاری

واقعے کے فوراً بعد پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر کارروائی شروع کر دی۔ سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق سکیورٹی فورسز کی جانب سے علاقے میں بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن جاری ہے۔

حکام نے دھماکے کی نوعیت اور اس میں استعمال ہونے والے مواد سے متعلق مزید تفصیلات فوری طور پر جاری نہیں کیں۔

گورنر خیبر پختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس کے اعلیٰ حکام سے فوری رپورٹ طلب کر لی۔

گورنر ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق فیصل کریم کنڈی نے پولیس اہلکاروں کی شہادت پر گہرے رنج، دکھ اور غم کا اظہار کیا اور شہدا کے اہل خانہ سے تعزیت کی۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا پولیس کے بہادر اہلکار عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں۔ انہوں نے شہدا کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پولیس اہلکاروں کی خدمات قابلِ فخر ہیں۔

صدر مملکت کا پولیس اہلکاروں کو خراجِ عقیدت

صدر مملکت آصف علی زرداری نے بھی ٹانک میں دہشت گرد حملے کے نتیجے میں پولیس اہلکاروں کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔

ایوانِ صدر سے جاری بیان کے مطابق صدر مملکت نے شہید اہلکاروں کی بہادری اور ملک و قوم کی خدمت کے جذبے کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

انہوں نے شہدا کے اہل خانہ سے اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے ان کے لیے صبر اور حوصلے کی دعا کی۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھنے کا عزم

واقعے کے بعد سکیورٹی اداروں نے علاقے میں کارروائیاں مزید تیز کر دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ امن و امان برقرار رکھنے اور حملے میں ملوث عناصر کا سراغ لگانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

 
 
Post Bottom Ad Panel