Post Main Ad Panel
Read in English سرانان پولیس اسٹیشن پر حملہ: کالعدم بی ایل اے کی کارروائی نے سکیورٹی صورتحال پر سوالات اٹھا دیے

سرانان پولیس اسٹیشن پر حملہ: کالعدم بی ایل اے کی کارروائی نے سکیورٹی صورتحال پر سوالات اٹھا دیے

7 ویوز

پشین: بلوچستان کے ضلع پشین کے پشتون اکثریتی علاقے سرانان بازار میں پولیس تھانے پر مسلح حملے اور دھماکے کی ذمہ داری کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے قبول کرلی ہے، جس کے بعد صوبے میں عسکریت پسند تنظیموں کی سرگرمیوں کے دائرہ کار پر ایک بار پھر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

مقامی رہائشیوں اور پولیس حکام کے مطابق 20 اگست کو 25 سے زائد مسلح افراد سرانان بازار میں داخل ہوئے اور پولیس تھانے کو نشانہ بنایا۔ حملہ آوروں نے تھانے میں دھماکہ خیز مواد نصب کرکے عمارت کو نقصان پہنچایا اور بعد ازاں علاقے سے فرار ہوگئے۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں مسلح افراد کو بازار میں موجود دیکھا جا سکتا ہے، جس کے بعد پولیس تھانے میں دھماکہ ہوتا ہے۔ مقامی شہریوں اور ایک سینئر پولیس افسر نے ویڈیو کی تصدیق کی ہے۔

ایک سینئر پولیس افسر کے مطابق دھماکے سے تھانے کا مرکزی گیٹ اور دو کمرے مکمل طور پر تباہ جبکہ تین کمروں کو جزوی نقصان پہنچا۔ واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

مقامی رہائشیوں کے مطابق حملہ آوروں نے پولیس تھانے کے علاوہ تحصیل دفتر اور نادرا کے دفاتر کو بھی نقصان پہنچانے کی کوشش کی، تاہم ان عمارتوں کو معمولی نقصان پہنچا اور زیادہ تر شیشے ٹوٹے۔

سکیورٹی صورتحال پر سوالات

سکیورٹی ماہرین کے مطابق واقعہ اس لیے اہم ہے کہ سرانان ضلع پشین کا ایک پشتون اکثریتی علاقہ ہے اور کوئٹہ چمن شاہراہ کے قریب واقع ہے۔

تجزیہ کار رفیع اللہ کاکڑ نے کہا کہ دن دہاڑے مسلح افراد کا بازار میں داخل ہونا، پولیس اسٹیشن کو نشانہ بنانا اور بغیر کسی بڑی مزاحمت کے واپس چلے جانا سکیورٹی انتظامات پر سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے۔

ان کے مطابق واقعے سے یہ تاثر ملتا ہے کہ عسکریت پسند گروہ بلوچستان کے بلوچ اکثریتی علاقوں سے نکل کر اہم شاہراہوں کے قریب واقع پشتون علاقوں تک بھی رسائی حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف پیس اسٹڈیز کے ڈائریکٹر محمد عامر رانا نے کہا کہ کارروائی کا بظاہر مقصد اس علاقے میں عسکریت پسند تنظیم کی موجودگی کا اظہار کرنا تھا۔

انہوں نے کہا کہ پشین کی جغرافیائی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ یہ کوئٹہ کے قریب واقع ہے۔

حکومت نے انکوائری کمیٹی قائم کردی

بلوچستان کے محکمہ داخلہ کے میڈیا ایڈوائزر بابر یوسفزئی نے واقعے کو دہشت گردی کی کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد علاقے میں خوف و ہراس پھیلانا تھا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ سکیورٹی فورسز نے حملہ آوروں کا تعاقب کیا اور انہیں نقصان پہنچایا۔

بابر یوسفزئی کے مطابق واقعے کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے اور اگر کسی اہلکار کی غفلت ثابت ہوئی تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز بلوچستان میں کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

کالعدم بی ایل اے کی بڑھتی سرگرمیاں

کالعدم بلوچ لبریشن آرمی بلوچستان میں سکیورٹی فورسز، سرکاری تنصیبات، شاہراہوں اور دیگر اہم مقامات پر حملوں کی ذمہ داری قبول کرتی رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق سرانان کا واقعہ اس لیے غیر معمولی ہے کہ یہ ایک ایسے پشتون اکثریتی علاقے میں پیش آیا جو کوئٹہ چمن شاہراہ کے قریب واقع ہے۔

پشتون قوم پرست جماعتوں نے بھی واقعے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی نے دن دہاڑے مسلح افراد کے پولیس تھانے پر حملے اور ان کے فرار ہونے پر سوالات اٹھاتے ہوئے واقعے کی مذمت کی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں امن و امان برقرار رکھنے اور عسکریت پسند گروہوں کی کارروائیوں کو روکنے کے لیے سکیورٹی اقدامات مزید مؤثر بنائے جا رہے ہیں۔

Post Bottom Ad Panel